بیگو سرائے،8؍اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ایک طرف جہاں ملک بھرمیں رام نومی کے موقع پرمتعددمقامات سے کشیدگی کی اطلاعات آئیں وہیں بہارکے بیگو سرائے ضلع میں رام نومی کے دوران مسلمانوں نے ایک ہنومان مندر کی مرمت کی ۔جسے فرقہ وارنہ ہم آہنگی کی اہم مثال کے طور پر بتایا جارہاہے حالانکہ اگرکوئی دوسری کمیونٹی ایساکرتی تووہ نشانہ پرآجاتی ہے ۔سیکولرزم کاپیمانہ دونوں معاملوں میں بدل جایاکرتاہے ۔ضلع کے بکھری علاقے میں اس مندر کے لئے مسلم خاندانوں نے نہ صرف اپنی زمین عطیہ دی، بلکہ اس کی صلاحیت کے مطابق اقتصادی مدد کی اور شرمدان بھی کیا۔بکھری کے شہید چوک پر نصب قدیم ہنومان مندر کافی خستہ ہو گیا تھا۔جگہ کی کمی کی وجہ سے زائرین کویہاں پوجامیں کافی پریشانی ہوتی تھی۔اس مندر پر بکھری کے تھانہ انچارج سنیل کمارکی نظر پڑی۔انہوں نے اس مندرکی تعمیرنوکے لئے مقامی لوگوں سے بات کی۔مندر کے تعمیر نو کے لئے تو تمام تیار تھے، لیکن سب سے بڑا مسئلہ زمین کو لے کر تھا۔مندرکے ارد گرد مسلم خاندانوں کی زمین تھی۔جب اس بارے میں مسلم خاندانوں سے بات کی گئی تو وہ خودآگے آئے۔تھانہ انچارج نے بتایا کہ محمدمرتضیٰ نے رضاکارانہ طور پر مندر کے قریب اپنی زمین مندر کے لئے عطیہ دے دی، جبکہ محمد طفیل احمد، محمد سلیم اور احمد نے اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔